بین الاقوامی بحریات انسٹی ٹیوٹ: سمندر کے پوشیدہ عجائبات کو کیسے دریافت کریں

webmaster

해양학 국제 연구소 - **Prompt: Collective Action for a Cleaner Ocean**
    "A visually striking and hopeful image of ocea...

ہمارے سیارے پر زندگی کا تصور سمندر کے بغیر ناممکن ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ وسیع نیلے سمندر ہماری روزمرہ کی زندگی میں کتنے اہم ہیں؟ میں تو کئی بار سوچتا ہوں اور جب بھی ان کی گہرائیوں اور وسعت کے بارے میں پڑھتا ہوں تو حیرت زدہ رہ جاتا ہوں۔ یہ ہماری زمین کے پھیپھڑے ہیں، جو ہمیں سانس لینے کے لیے آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور ماحول کو متوازن رکھتے ہیں۔ سمندر صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ اربوں مخلوقات کا گھر ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔لیکن دوستو، کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے یہ قیمتی سمندر آج کتنے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آلودگی اور حد سے زیادہ ماہی گیری جیسی وجوہات کی بنا پر ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ مجھے تو جب بھی پلاسٹک کا کچرا سمندر میں تیرتا ہوا نظر آتا ہے، بہت دکھ ہوتا ہے۔ ایسے میں، ایک ایسا ادارہ جو ان سمندروں کے تحفظ اور پائیدار مستقبل کے لیے کام کر رہا ہے، واقعی قابلِ ستائش ہے۔ انٹرنیشنل اوشن انسٹی ٹیوٹ (IOI) جیسے ادارے اسی مشن پر گامزن ہیں کہ ہمارے سمندر ہماری آئندہ نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہیں۔ یہ انسٹی ٹیوٹ نہ صرف سمندری تحقیق کو فروغ دیتا ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کو سمندروں کے انتظام کے بارے میں تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت ضروری کام ہے، ورنہ ہماری آنے والی نسلیں سمندر کی خوبصورتی اور اس کے فوائد سے محروم رہ جائیں گی۔آئیے، آج ہم اسی اہم ادارے اور سمندری دنیا کے تازہ ترین رجحانات کے بارے میں مزید تفصیل سے جانیں۔ دقیق معلومات کے لیے نیچے کا مضمون ملاحظہ فرمائیے!

سمندروں کا تحفظ: ہماری مشترکہ ذمہ داری اور چیلنجز

해양학 국제 연구소 - **Prompt: Collective Action for a Cleaner Ocean**
    "A visually striking and hopeful image of ocea...

دوستو، سچ کہوں تو جب میں سمندروں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے دل میں بیک وقت خوبصورتی اور فکر مندی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ ایک طرف تو ان کی وسعت، گہرائی اور اندر چھپی رنگا رنگ زندگی مجھے حیرت زدہ کر دیتی ہے، اور دوسری طرف ان کو درپیش خطرات مجھے پریشان کر دیتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے کسی بہت پیارے کو دیکھ رہے ہوں جو بیمار ہو رہا ہو۔ ہمارے سمندر آج کل ایسے ہی بیمار محسوس ہوتے ہیں، اور یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی دیکھ بھال کریں۔ میرے خیال میں سب سے بڑا چیلنج جو آج ہمارے سمندروں کو درپیش ہے وہ آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں بچپن میں ساحل سمندر پر جاتا تھا تو پانی کتنا صاف ہوتا تھا، لیکن اب کئی جگہوں پر پلاسٹک کی بوتلیں اور کچرا دیکھ کر دل بہت دکھتا ہے۔ یہ صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ہر اُس شخص کو تکلیف دیتا ہے جو سمندر سے محبت کرتا ہے۔

آلودگی کا عفریت اور اس کا مقابلہ

پلاسٹک، کیمیکلز، اور صنعتی فضلہ ہمارے سمندروں میں اس رفتار سے شامل ہو رہا ہے کہ سمندری حیات کے لیے زندہ رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ نہ صرف سمندر کے ایکو سسٹم کو تباہ کر رہا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر ہم انسانوں کی صحت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے کئی سمندری جانور پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر کھا لیتے ہیں، اور پھر ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر واقعی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں نہ صرف انفرادی سطح پر کوششیں کرنی ہوں گی بلکہ حکومتوں اور عالمی اداروں کو بھی سخت قوانین بنانے ہوں گے۔ میری تو ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ چھوٹی چھوٹی عادتیں ہی بڑا فرق پیدا کرتی ہیں، جیسے پلاسٹک کا استعمال کم کرنا اور کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانا۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سمندر ہمارا مشترکہ گھر ہے اور اس کی صفائی کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے۔

حد سے زیادہ ماہی گیری اور سمندری حیات

آلودگی کے علاوہ ایک اور سنگین مسئلہ حد سے زیادہ ماہی گیری (overfishing) کا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر ہم اپنی ضرورت سے زیادہ مچھلیاں پکڑ لیں تو سمندر کا کیا بنے گا؟ بدقسمتی سے، کچھ مچھلیاں تو ایسی ہیں جو تقریباً نایاب ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ ان کو بہت زیادہ پکڑا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف مخصوص اقسام کی مچھلیوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے سمندری فوڈ چین کو متاثر کرتا ہے۔ مجھے تو یہ سن کر ہی پریشانی ہوتی ہے کہ ہمارے بچے شاید مستقبل میں بہت سی سمندری مخلوقات کو صرف کتابوں میں ہی دیکھ سکیں گے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہم پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کو فروغ دیں اور ایسے قوانین بنائیں جو سمندری وسائل کے بے دریغ استعمال کو روک سکیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ماہی گیروں کو جدید اور ماحول دوست طریقے سکھائیں تاکہ سمندری حیات کی نسلیں محفوظ رہ سکیں۔

انٹرنیشنل اوشن انسٹی ٹیوٹ (IOI) کا سمندری تحفظ میں کلیدی کردار

میرے عزیز دوستو، جب میں نے انٹرنیشنل اوشن انسٹی ٹیوٹ (IOI) کے بارے میں مزید تفصیل سے پڑھا تو مجھے واقعی یہ محسوس ہوا کہ دنیا میں اچھے لوگ اور ادارے موجود ہیں جو ہمارے قیمتی سمندروں کو بچانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ یہ انسٹی ٹیوٹ صرف ایک نام نہیں، بلکہ سمندری دنیا کے لیے امید کی کرن ہے۔ ان کا مقصد صرف تحقیق کرنا نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کو سمندری ماحول کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور انہیں اس کے پائیدار انتظام کے لیے تربیت دینا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر ایسے ادارے نہ ہوں تو ہمارے سمندروں کا کیا حال ہو؟ مجھے تو یقین ہے کہ IOI جیسے ادارے ہی ہمیں مستقبل میں سمندروں کو بچانے کی راہ دکھا رہے ہیں۔ ان کی کوششیں واقعی قابلِ تعریف ہیں۔

عالمی سطح پر سمندری تعلیم اور تربیت کی فراہمی

IOI کا ایک اہم کام عالمی سطح پر سمندری تعلیم اور تربیت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے سمندری علوم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مختلف پروگرام اور کورسز شروع کیے ہیں۔ یہ کورسز نہ صرف سائنسدانوں اور محققین کے لیے ہیں بلکہ پالیسی سازوں، ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں اور عام عوام کے لیے بھی ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے ان کے تربیتی پروگراموں کے ذریعے بہت سے نوجوانوں کو سمندری تحفظ کے بارے میں گہرا علم حاصل ہوا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تعلیم ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے اور IOI اسی ہتھیار کو استعمال کر کے ہمارے سمندروں کو بچا رہا ہے۔ یہ ایک بہت ہی متاثر کن پہلو ہے، کیونکہ جب لوگ علم حاصل کرتے ہیں تو وہ خود بخود ذمہ دار بن جاتے ہیں اور اپنے ارد گرد کے ماحول کا خیال رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

پائیدار ترقی کے لیے تحقیق اور پالیسی سازی

IOI صرف تعلیم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ سمندری تحقیق اور پالیسی سازی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کی تحقیق سمندری ماحولیاتی نظاموں، آبی آلودگی، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ اس تحقیق کی بنیاد پر، وہ حکومتی اداروں کو ایسی پالیسیاں بنانے میں مدد دیتے ہیں جو سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنائیں۔ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ جب کوئی ادارہ نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرے بلکہ ان کے عملی حل بھی تجویز کرے تو وہ واقعی قابلِ اعتماد ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار یہ دیکھا ہے کہ ان کی پیش کردہ سفارشات کو عالمی سطح پر قبول کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے کام میں کتنی صداقت اور مہارت ہے۔

Advertisement

سمندری ٹیکنالوجی میں نئے رجحانات اور امید کی نئی کرنیں

میرے پیارے دوستو، ایک بات جو مجھے سمندری تحفظ کے حوالے سے بہت پر امید کرتی ہے، وہ ٹیکنالوجی میں آنے والی تیزی سے ترقی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کے پاس کوئی ایسا نیا اوزار آ گیا ہو جس سے آپ کا کام بہت آسان ہو جائے۔ پہلے جہاں سمندر کی گہرائیوں کا مطالعہ کرنا بہت مشکل اور خطرناک ہوتا تھا، وہیں اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم سمندری دنیا کے بہت سے راز آسانی سے جان سکتے ہیں۔ مجھے تو یہ سوچ کر ہی بہت حیرت ہوتی ہے کہ آج ہم کتنی آسانی سے سمندر کی تہہ میں ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ یہ سب ٹیکنالوجی کے کمالات ہیں جو ہمارے لیے سمندری تحقیق کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نئی ایجادات ہمیں سمندروں کو بچانے میں بہت مددگار ثابت ہوں گی۔

زیر آب ڈرونز اور ریموٹ سینسنگ کی بڑھتی ہوئی اہمیت

آج کل زیر آب ڈرونز اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے۔ یہ ڈرونز سمندر کی گہرائیوں میں جا کر ویڈیوز اور تصاویر لیتے ہیں، اور سمندری حیات کے رویے کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سیٹلائٹ کے ذریعے ریموٹ سینسنگ سے سمندری سطح کے درجہ حرارت، آلودگی کی مقدار، اور سمندری دھاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو ہمیں سمندروں کی صحت کی حقیقی تصویر دکھا رہی ہے۔ میں نے ایک رپورٹ میں پڑھا تھا کہ کیسے ان ڈرونز کی مدد سے سائنسدانوں نے سمندری تہہ میں چھپی نئی مخلوقات کو دریافت کیا ہے۔ یہ واقعی ایک دلچسپ اور فائدہ مند پیش رفت ہے، جو ہمارے علم میں اضافہ کر رہی ہے۔

سمندری ڈیٹا کا تجزیہ اور مصنوعی ذہانت کا انقلاب

جدید ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت (AI) اور بڑے ڈیٹا (Big Data) کا تجزیہ سمندری علوم میں ایک انقلاب برپا کر رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سمندر سے حاصل ہونے والے بے پناہ ڈیٹا کو پروسیس کر کے ہمیں قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، AI کی مدد سے سمندری آلودگی کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یا ماہی گیری کے پائیدار علاقوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ مجھے تو یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ کیسے مشینیں اتنی تیزی سے اتنا بڑا ڈیٹا پروسیس کر لیتی ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب آپ کے پاس درست اور بروقت معلومات ہو تو فیصلے کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے، اور یہی کچھ AI ہمیں سمندری تحفظ کے میدان میں فراہم کر رہا ہے۔

آپ بھی سمندری تحفظ میں کیسے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں؟

میرے دوستو، مجھے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ “میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں؟” میرا جواب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایک چھوٹا سا قطرہ ہی تو سمندر بناتا ہے۔ ہم سب اگر اپنی روزمرہ کی زندگی میں کچھ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لائیں تو اس کا مجموعی اثر بہت بڑا ہو سکتا ہے۔ مجھے تو یہ ہمیشہ سے محسوس ہوتا ہے کہ سمندروں کا تحفظ صرف سائنسدانوں یا حکومتوں کا کام نہیں بلکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے سیارے کے “پھیپھڑوں” یعنی سمندروں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ میں نے خود اپنی زندگی میں کچھ ایسی عادتیں اپنائی ہیں جن سے مجھے لگتا ہے کہ میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں۔

روزمرہ کی عادات میں لائیں مثبت تبدیلیاں

سب سے پہلے، پلاسٹک کا استعمال کم کریں۔ میں نے خود پلاسٹک کی بوتلوں کی بجائے دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلیں استعمال کرنا شروع کی ہیں، اور شاپنگ کے لیے اپنا کپڑے کا بیگ ساتھ لے کر جاتا ہوں۔ یہ چھوٹی سی عادت ماحول پر بہت مثبت اثر ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ، جو مچھلیاں ہم کھاتے ہیں، ان کے بارے میں معلومات حاصل کریں کہ آیا انہیں پائیدار طریقوں سے پکڑا گیا ہے یا نہیں۔ اگر آپ ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں تو ساحل پر صفائی مہم میں حصہ لیں یا خود سے کچرا اٹھانے کی عادت ڈالیں۔ یہ کام کرتے ہوئے مجھے ہمیشہ اندر سے ایک خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میں اپنے سیارے کے لیے کچھ کر رہا ہوں۔

آگاہی پھیلانا اور عملی اقدامات کرنا

اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا پر سمندری تحفظ کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔ ان کو بتائیں کہ سمندر ہمارے لیے کتنے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ، آپ مقامی سطح پر سمندری تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں میں رضاکارانہ خدمات بھی انجام دے سکتے ہیں۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے اقدامات ہمیں ایک بہت بڑے مقصد کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہمارے سمندر پھر سے پہلے کی طرح صاف اور آباد ہو سکتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ ایک پودا لگاتے ہیں اور پھر وہ بڑا ہو کر ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ ہماری کوششیں بھی اسی طرح پھل دیں گی، انشاءاللہ۔

Advertisement

سمندری معیشت اور ‘نیلے روزگار’ کے نئے مواقع

میرے دوستو، جب ہم سمندروں کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہمارے ذہن میں صرف مچھلیاں اور چھٹیاں گزارنے کے ساحل آتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ سمندر اس سے کہیں زیادہ وسیع امکانات رکھتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ‘نیلی معیشت’ (Blue Economy) ایک بہت بڑا رجحان بن کر سامنے آ رہی ہے۔ یہ صرف ماہی گیری کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ سمندروں سے حاصل ہونے والے ان تمام فوائد کے بارے میں ہے جو پائیدار طریقے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مجھے تو یہ سن کر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ سمندر سے ہم کتنی مختلف چیزیں حاصل کر سکتے ہیں، جو ہماری زندگیوں کو بہتر بناتی ہیں۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں بے پناہ روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ابھرتی ہوئی نیلگوں معیشت کا تعارف

نیلی معیشت میں ماہی گیری کے علاوہ شپنگ، ساحلی سیاحت، سمندری قابل تجدید توانائی (جیسے لہروں اور سمندری دھاروں سے بجلی پیدا کرنا)، آبی زراعت (Aquaculture)، سمندری بایو ٹیکنالوجی، اور سمندری تحقیق و ترقی شامل ہیں۔ یہ تمام شعبے نہ صرف روزگار کے نئے دروازے کھول رہے ہیں بلکہ ہمارے معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب آپ کسی بھی شعبے میں پائیداری کو شامل کر لیتے ہیں، تو اس کے فوائد کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، اور نیلی معیشت اسی اصول پر مبنی ہے۔ اس سے نہ صرف انسان فائدہ اٹھاتے ہیں بلکہ سمندری ماحول کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

ماہی گیری سے ہٹ کر نئے اور متنوع مواقع

صرف ماہی گیری ہی نہیں، بلکہ سمندری سیاحت میں بھی بہت سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ای-کو ٹورزم (Eco-tourism) جہاں لوگ قدرتی ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سمندری بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے ادویات اور دیگر صنعتی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک کامیاب کیریئر بنا سکتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ ایک نیا راستہ تلاش کر لیں جو آپ کو کامیابی کی منزل تک لے جائے۔

سمندروں سے جڑی دلچسپ حقائق اور کہانیاں

دوستو، سمندر صرف پانی کا ایک بڑا ذخیرہ نہیں ہیں، بلکہ یہ اپنے اندر لاتعداد راز اور کہانیاں سموئے ہوئے ہیں۔ مجھے تو جب بھی سمندروں کے بارے میں کچھ نیا پڑھنے کو ملتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے میں کسی جادوئی دنیا میں داخل ہو گیا ہوں۔ یہ ہمیں نہ صرف زندہ رہنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتے ہیں، بلکہ ہمارے ثقافتی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں کیا کیا چھپا ہو سکتا ہے؟ مجھے تو اس کے بارے میں سوچ کر ہی ایک الگ طرح کا تجسس ہوتا ہے، اور میں اکثر سوچتا ہوں کہ کاش میں بھی کبھی ان گہرائیوں میں جا کر خود دیکھ سکوں۔

گہرائیوں کے راز اور انوکھی مخلوقات

سمندر کی گہرائیوں میں ایسی ایسی انوکھی اور عجیب و غریب مخلوقات پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کچھ مچھلیاں تو ایسی ہیں جو بالکل تاریکی میں اپنی روشنی پیدا کرتی ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جو بالکل شفاف ہوتی ہیں۔ سائنسدان اب بھی سمندر کی تہہ کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی دریافت کر پائے ہیں۔ میرا تو ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ قدرت کے پاس ابھی بھی بہت سے ایسے راز ہیں جو انسان نے ابھی تک نہیں کھولے۔ یہ سب کچھ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمارے سیارے پر کتنی تنوع اور خوبصورتی موجود ہے۔

ثقافت اور سمندر کا گہرا رشتہ

해양학 국제 연구소 - **Prompt: High-Tech Ocean Exploration and Data-Driven Conservation**
    "An awe-inspiring and techn...

دنیا بھر کی کئی ثقافتوں اور تہذیبوں کا سمندروں سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ بہت سی کہانیاں، نظمیں، اور لوک گیت سمندروں کے بارے میں ہیں۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی سمندر سے جڑی ہوتی ہے، ان کی خوراک، ان کا روزگار، اور ان کی روایات سب سمندر کے گرد گھومتی ہیں۔ مجھے تو یہ دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ کیسے سمندر لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔

Advertisement

سمندری تحفظ کے عالمی اقدامات: ایک جائزہ

میرے دوستو، یہ جان کر بہت تسلی ہوتی ہے کہ ہمارے سمندروں کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر بھی بہت سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے، اور اس لیے اس کا حل بھی عالمی سطح پر ہی ممکن ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بڑا گھر ہو اور گھر کے تمام افراد مل کر اس کی دیکھ بھال کریں۔ مختلف ممالک کی حکومتیں، غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs)، اور عالمی ادارے سب مل کر اس عظیم مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مجھے تو یہ دیکھ کر ہمیشہ امید ہوتی ہے کہ ہم ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی معاہدے اور سمندری قانون

سمندری تحفظ کے لیے کئی بین الاقوامی معاہدے اور قوانین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، اقوام متحدہ کا سمندری قانون (UNCLOS) جو سمندری سرگرمیوں کو منظم کرتا ہے اور ممالک کے سمندری حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے۔ یہ قوانین بہت اہم ہیں کیونکہ یہ سمندروں کے پائیدار استعمال کو یقینی بناتے ہیں اور ان کو آلودگی سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب کوئی چیز قانون کے دائرے میں آ جاتی ہے تو اس کی اہمیت اور اطلاق دونوں بڑھ جاتے ہیں۔

سمندری محفوظ علاقے (MPAs) کا قیام

دنیا بھر میں سمندری محفوظ علاقے (Marine Protected Areas – MPAs) قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہوتے ہیں جہاں سمندری حیات اور ان کے مسکن کو خصوصی تحفظ دیا جاتا ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر پھل پھول سکیں۔ ان علاقوں میں ماہی گیری یا دیگر انسانی سرگرمیاں محدود کر دی جاتی ہیں تاکہ ماحول پر منفی اثر نہ پڑے۔ مجھے تو یہ ایک بہت ہی اچھا قدم لگتا ہے کیونکہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کسی نایاب جانور کے لیے ایک پناہ گاہ بنا دیں تاکہ وہ وہاں محفوظ رہ سکے۔ یہ ادارے نہ صرف سمندری حیات کو بچا رہے ہیں بلکہ سمندری ایکو سسٹم کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آبی زراعت: سمندری غذا کا پائیدار حل اور مستقبل

میرے پیارے پڑھنے والو، جب ہم سمندری غذا کی بات کرتے ہیں تو اکثر لوگوں کے ذہن میں صرف جنگلی مچھلیاں آتی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اب ایک نیا اور پائیدار طریقہ بھی موجود ہے جسے آبی زراعت (Aquaculture) کہتے ہیں؟ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ زراعت کے ذریعے کھیتوں میں سبزیاں اگاتے ہیں، اسی طرح پانی میں مچھلیاں، جھینگے اور سیپ وغیرہ اگائے جاتے ہیں۔ مجھے تو یہ سن کر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ انسان نے کیسے قدرت کے نظام سے سیکھ کر اپنے لیے پائیدار حل نکال لیے ہیں۔ یہ نہ صرف خوراک کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے بلکہ یہ جنگلی مچھلیوں کے ذخائر پر دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔

آبی زراعت کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟

آبی زراعت بنیادی طور پر کنٹرول شدہ ماحول میں آبی جانوروں اور پودوں کی کاشت ہے۔ یہ میٹھے پانی اور کھارے پانی دونوں جگہوں پر کی جاتی ہے۔ اس میں مچھلیوں کے فارم، سیپ کے فارم، اور آبی پودوں کی کاشت شامل ہے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے اب ایسے فارم بنائے جا رہے ہیں جہاں پانی کا درجہ حرارت، خوراک اور صفائی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ میں نے ایک بار ایک ایسے فارم کے بارے میں پڑھا تھا جہاں کم جگہ میں بہت بڑی تعداد میں مچھلیاں پال کر مارکیٹ تک پہنچائی جاتی تھیں۔ یہ بالکل ایک جدید صنعتی عمل کی طرح ہے، لیکن اس کا مقصد ماحول دوست طریقے سے خوراک کی پیداوار ہے۔

مستقبل کی خوراک اور معیشت میں آبی زراعت کا کردار

جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، خوراک کی مانگ بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے میں آبی زراعت ہمارے لیے ایک بہترین حل پیش کرتی ہے۔ یہ نہ صرف سستی اور تازہ سمندری غذا فراہم کرتی ہے بلکہ بہت سے ممالک کے لیے معاشی ترقی کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔ اس شعبے میں نئی ٹیکنالوجیز اور تحقیقی کام جاری ہے تاکہ اسے مزید موثر اور ماحول دوست بنایا جا سکے۔ مجھے تو یقین ہے کہ مستقبل میں آبی زراعت ہمارے دسترخوانوں پر سمندری غذا کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Advertisement

ہمارے سمندروں کا بدلتا ہوا چہرہ: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات

دوستو، میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے سمندروں نے نہ جانے کتنے موسم دیکھے ہوں گے، کتنے طوفان برداشت کیے ہوں گے۔ لیکن آج کل جو تبدیلیاں ان میں آ رہی ہیں، وہ شاید پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس نے ہمارے سیارے کے ہر کونے کو متاثر کیا ہے، اور سمندر اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ مجھے تو یہ جان کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ انسان کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہمارے قدرتی ماحول کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ اپنے گھر کو خود ہی گندا کر رہے ہوں اور اس کی بنیادیں کمزور کر رہے ہوں۔

بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور سمندری حیات

کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہمارے سیارے کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اور اس کا سب سے بڑا اثر سمندروں پر پڑ رہا ہے۔ سمندر کا پانی گرم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت سی سمندری مخلوقات اپنے قدرتی مسکن کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر،珊瑚 (coral reefs) جو ہزاروں سمندری مخلوقات کا گھر ہیں، درجہ حرارت بڑھنے سے سفید ہو کر مر رہے ہیں۔ میں نے ایک رپورٹ میں پڑھا تھا کہ کیسے ایک پورا کا پورا کورل ریف اس تبدیلی کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔ یہ سوچ کر دل بہت غمگین ہو جاتا ہے۔

تیزابیت میں اضافہ اور اس کے اثرات

موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور سنگین نتیجہ سمندری پانی کی تیزابیت (ocean acidification) میں اضافہ ہے۔ سمندر ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، لیکن جب یہ بہت زیادہ ہو جاتی ہے تو پانی کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ تیزابیت سیپ، گھونگے اور دیگر خول والی مخلوقات کے لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ یہ ان کے خولوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ مجھے تو یہ ایک خاموش قاتل لگتا ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے سمندری ایکو سسٹم کو تباہ کر رہا ہے۔ ہم سب کو اس مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس کے حل کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔

سمندری تحفظ: جدید حکمت عملی اور کامیابی کی کہانیاں

میرے دوستو، مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ سمندروں کو بچانے کے لیے صرف مسائل پر ہی بات نہیں ہو رہی بلکہ دنیا بھر میں کئی کامیاب کہانیاں بھی رقم کی جا رہی ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی بیماری کے باوجود مریض کی صحت میں بہتری آ رہی ہو۔ یہ کامیابیاں ہمیں امید دیتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ اگر ہم صحیح حکمت عملی اپنائیں تو ہم واقعی سمندروں کو بچا سکتے ہیں۔ مجھے تو ایسی کہانیاں پڑھ کر ہمیشہ ایک نئی توانائی ملتی ہے اور میں بھی اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مزید پرجوش ہو جاتا ہوں۔

کامیاب بحالی کے منصوبے

کئی علاقوں میں سمندری ایکو سسٹمز کی بحالی کے کامیاب منصوبے چل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، مچھلیوں کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے جدید فشریز مینجمنٹ کے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کچھ جگہوں پر تباہ شدہ کورل ریفس کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور مجھے یہ سن کر بہت اچھا لگتا ہے کہ یہ کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کسی اجڑے ہوئے باغ کو دوبارہ ہرا بھرا کر رہے ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ ہماری یہ کوششیں ہمارے سمندروں کو بھی دوبارہ زندگی بخشیں گی۔

ساحلی علاقوں کا پائیدار انتظام

ساحلی علاقوں کے پائیدار انتظام پر بھی بہت زور دیا جا رہا ہے۔ اس میں ساحلی کٹاؤ کو روکنا، مینگروو کے جنگلات لگانا، اور ساحلی بستیوں کو سمندری طوفانوں سے بچانے کے لیے اقدامات کرنا شامل ہے۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف ماحول کو فائدہ پہنچاتے ہیں بلکہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ مجھے تو یہ دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ جب انسان اور قدرت دونوں مل کر ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں۔

سمندری تحفظ کے اہم چیلنجز حل اور عالمی اقدامات
پلاسٹک اور دیگر آلودگی پلاسٹک کا استعمال کم کرنا، ری سائیکلنگ کو فروغ دینا، سخت ماحولیاتی قوانین
حد سے زیادہ ماہی گیری پائیدار ماہی گیری کے طریقے، کوٹے کا نظام، محفوظ سمندری علاقے (MPAs)
موسمیاتی تبدیلی (درجہ حرارت میں اضافہ) کاربن کے اخراج میں کمی، قابل تجدید توانائی کا فروغ، ساحلی تحفظ
سمندری تیزابیت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنا، تحقیق اور آگاہی
ناجائز شکار اور سمگلنگ بین الاقوامی تعاون، سخت قانون سازی، نگرانی میں اضافہ
Advertisement

میری آخری بات

دوستو، سچ کہوں تو سمندروں کی یہ کہانی سناتے ہوئے میرے دل میں ایک عجیب سا احساس جاگا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہم سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں اور اس کشتی کا نام ‘زمین’ ہے۔ اگر اس کشتی کا کوئی حصہ کمزور پڑتا ہے تو ہم سب کو نقصان ہوتا ہے۔ ہمارے سمندر ہمارے سیارے کی رگوں میں بہتے خون کی طرح ہیں، جو اسے زندگی بخشتے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ جس طرح ہم نے اس پوسٹ میں مختلف مسائل اور ان کے حل پر بات کی ہے، اسی طرح ہم سب مل کر عملی اقدامات بھی کریں گے۔ یہ یاد رکھیں، سمندروں کا تحفظ صرف سمندری مخلوق کے لیے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے، ہمارے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اپنی مشترکہ کوششوں سے اپنے سمندروں کو پھر سے آباد اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور ایک بہتر مستقبل کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔

کام کی باتیں

1. پلاسٹک کا استعمال کم سے کم کریں۔ اپنی پلاسٹک کی بوتل کو بار بار استعمال کریں اور شاپنگ کے لیے کپڑے کا تھیلا لے کر جائیں۔ یہ چھوٹی سی عادت ماحول پر بڑا مثبت اثر ڈالتی ہے۔
2. سمندری مصنوعات خریدتے وقت یہ یقینی بنائیں کہ وہ پائیدار ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ مقامی ماہی گیروں کو سپورٹ کریں جو ماحول دوست طریقوں سے مچھلی پکڑتے ہیں۔
3. سمندروں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے انٹرنیشنل اوشن انسٹی ٹیوٹ (IOI) جیسی تنظیموں کی ویب سائٹس وزٹ کریں اور ان کے کام کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔
4. موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے توانائی کی بچت کریں، زیادہ پیدل چلیں یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ آپ کا ہر چھوٹا قدم کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
5. اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ سمندری تحفظ کی اہمیت پر بات کریں اور انہیں بھی اس نیک کام میں شامل ہونے کی ترغیب دیں۔ آگاہی پھیلانا بہت ضروری ہے۔

Advertisement

اہم باتوں کا خلاصہ

تو دوستو، آج کی اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ ہمارے سمندر واقعی بہت قیمتی ہیں اور انہیں آلودگی، حد سے زیادہ ماہی گیری، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ انٹرنیشنل اوشن انسٹی ٹیوٹ (IOI) جیسی تنظیمیں تعلیم، تحقیق اور پالیسی سازی کے ذریعے سمندروں کو بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، جیسے زیر آب ڈرونز اور مصنوعی ذہانت، سمندروں کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کی حفاظت کرنے میں ہماری مدد کر رہی ہے۔ آبی زراعت جیسے پائیدار طریقے خوراک کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور جنگلی ذخائر پر دباؤ کم کرنے کا حل فراہم کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم سب انفرادی طور پر اپنی عادات میں تبدیلی لا کر اور آگاہی پھیلا کر اس میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ سمندروں کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اور مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہم اپنے سیارے کے اس نیلے دل کو بچا سکتے ہیں اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند حالت میں چھوڑ سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: انٹرنیشنل اوشن انسٹی ٹیوٹ (IOI) آخر کیا کام کرتا ہے اور اس کا کام اتنا اہم کیوں ہے؟

ج: میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب بھی ہم کسی بڑے مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں ایک مضبوط اور منظم پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل اوشن انسٹی ٹیوٹ (IOI) بالکل یہی کام کر رہا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد سمندروں کو “ذریعہ حیات” کے طور پر پائیدار بنانا ہے، اور سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کے کنونشن میں شامل “بنی نوع انسان کے مشترکہ ورثے” کے اصول کو برقرار رکھنا اور پھیلانا ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت تسلی ہوتی ہے کہ یہ ادارہ صرف باتوں تک محدود نہیں، بلکہ عملی طور پر سمندری تحقیق کو فروغ دیتا ہے اور سمندری انتظام کے بارے میں عالمی سطح پر لوگوں کو تربیت فراہم کرتا ہے۔ میرے خیال میں، اس سے نہ صرف موجودہ چیلنجز کا حل نکلتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سمندروں کی خوبصورتی اور اس سے ملنے والے فوائد کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں، دنیا بھر میں ایسے ادارے بہت ضروری ہیں جو ہمیں بتائیں کہ ہمارے سمندر کتنے قیمتی ہیں اور انہیں کیسے بچایا جا سکتا ہے۔

س: آج ہمارے سمندروں کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟

ج: دوستو، میں نے جب بھی سمندروں کی موجودہ حالت کے بارے میں پڑھا ہے تو ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے سمندر آج کئی بڑے خطرات کا شکار ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ سب سے پہلے، موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ 1980 کی دہائی سے سمندروں نے انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا 20 سے 30 فیصد جذب کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سمندر کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سمندری سطح بلند ہو رہی ہے اور پانی کی تیزابیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے سمندری حیات، طوفانوں کی شدت اور ساحلی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دوسرا بڑا مسئلہ آلودگی ہے، خاص طور پر پلاسٹک کی آلودگی۔ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق، اس وقت سمندروں میں تقریباً 136 ملین میٹرک ٹن پلاسٹک موجود ہے، اور اس میں سالانہ 7 ملین میٹرک ٹن کا اضافہ ہو رہا ہے۔ مجھے تو یہ سوچ کر ہی دکھ ہوتا ہے کہ یہ پلاسٹک ہماری خوراک کی زنجیر میں داخل ہو رہا ہے اور سمندری مخلوقات کے ساتھ ساتھ انسانوں کی صحت کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں سمندری آلودگی ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے، جہاں صنعتی اور زرعی کچرا براہ راست سمندروں میں جا رہا ہے۔تیسرا اہم مسئلہ حد سے زیادہ ماہی گیری (overfishing) ہے۔ جب مچھلیوں کو ان کی افزائش کی رفتار سے زیادہ پکڑا جائے تو ان کی نسلیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اس سے صرف سمندری ماحول متاثر نہیں ہوتا بلکہ لاکھوں ماہی گیروں کا روزگار اور ہماری غذائی تحفظ بھی متاثر ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے ان چیلنجز پر توجہ نہ دی تو اس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔

س: ہم بطور فرد، اپنے سمندروں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں اور اس میں کیا تازہ ترین عالمی رجحانات ہیں؟

ج: بحیثیت ایک بلاگ انفلونسر، میرا ماننا ہے کہ تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے۔ سمندروں کے تحفظ کے لیے ہم سب اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ اس حوالے سے عالمی سطح پر بہت سے مثبت رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔میری ذاتی رائے میں، سب سے پہلے ہمیں پلاسٹک کا استعمال کم کرنا چاہیے، خاص طور پر سنگل یوز پلاسٹک۔ جب بھی میں مارکیٹ جاتا ہوں، پلاسٹک بیگ لینے سے گریز کرتا ہوں اور اپنا تھیلا ساتھ لے جاتا ہوں۔ یہ ایک چھوٹی سی عادت ہے مگر اس کا اثر بہت بڑا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے پروگرامز کی حمایت کریں جو ساحلوں کی صفائی کرتے ہیں اور پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے کے لیے ایک قانونی پابندی والے معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے۔دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ پائیدار ماہی گیری کو فروغ دیں۔ جب آپ مچھلی یا سمندری خوراک خریدیں تو یہ یقینی بنائیں کہ وہ پائیدار ذرائع سے حاصل کی گئی ہو۔ میری تو ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ مقامی اور پائیدار ماہی گیری کی حمایت کروں۔ اس سے سمندری ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے।تیسرا، سمندری ماحول کے بارے میں اپنی معلومات بڑھائیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔ جتنا زیادہ لوگ سمندروں کی اہمیت سے واقف ہوں گے، اتنا ہی زیادہ لوگ ان کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب میں اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو سمندروں کے بارے میں بتاتا ہوں تو وہ بھی اس بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔تازہ ترین رجحانات میں، “بلیو اکانومی” کا تصور بہت مقبول ہو رہا ہے۔ یہ سمندری وسائل کو پائیدار طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اقتصادی ترقی حاصل کرنے پر زور دیتا ہے، جس میں پائیدار ماہی گیری، سمندری سیاحت اور قابل تجدید توانائی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کئی ممالک 2030 تک اپنے سمندری علاقوں کے 30% حصے کو محفوظ کرنے کے ہدف “30×30 ہدف” پر کام کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب اجتماعی کوششیں ہمارے سمندروں کو بچانے کے لیے بہت امید افزا ہیں۔