## سمندری معیشت: ہمارے سمندروں میں چھپے مواقع اور روشن مستقبلدوستو، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے سمندر صرف خوبصورت نظارے اور ٹھنڈی ہوائیں ہی نہیں بلکہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بھی ہیں؟ میں نے تو کئی بار اس بارے میں گہرائی سے سوچا ہے اور اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ سمندروں میں ہمارے لیے بے شمار انمول خزانے اور ترقی کے نئے راستے چھپے ہیں۔ ہم اکثر زمین پر موجود وسائل کی بات کرتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ پانی کے نیچے ایک ایسی دنیا آباد ہے جو ہماری اقتصادی حالت کو یکسر بدل سکتی ہے؟آج کل ‘نیلی معیشت’ (Blue Economy) کی بات بہت ہو رہی ہے اور میرا یقین کریں، یہ صرف کوئی فینسی اصطلاح نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔ دنیا بھر میں 80 فیصد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے، اور پاکستان کی 95 فیصد سے زیادہ عالمی تجارت بھی اسی سمندر پر منحصر ہے۔ ذرا سوچیں، اگر ہم اپنے اس وسیع سمندری اثاثے کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا سیکھ لیں تو ہماری ترقی کی رفتار کتنی تیز ہو سکتی ہے!
خاص طور پر جب ہم بحیرہ احمر جیسے اہم تجارتی راستوں پر بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کو دیکھتے ہیں، تو سمندری معیشت کو سمجھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔سمندری معیشت صرف مچھلی پکڑنے یا جہاز رانی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ساحلی سیاحت، توانائی کے وسائل، سمندری حیاتیات، اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے لاتعداد شعبے شامل ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار سمندر کے ساحل پر ایک مقامی ماہی گیر سے بات کی، تو اس نے مجھے بتایا کہ کیسے سمندر اس کے خاندان کا واحد ذریعہ معاش ہے۔ یہ بات دل کو چھو گئی اور مجھے یہ احساس دلایا کہ سمندر کتنی بڑی طاقت ہے۔آئیے، آج ہم سمندری معاشیات کی بنیادی باتوں کو اس طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارے سمندر کیسے ہماری ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھول سکتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ اس سفر میں میرے ساتھ رہیں کیونکہ یہ معلومات نہ صرف آپ کی سوچ کو وسعت دے گی بلکہ آپ کو ان پوشیدہ امکانات سے بھی روشناس کرائے گی جو ہماری دہلیز پر موجود ہیں۔چلیے، ہم مل کر اس دلچسپ موضوع کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
سمندری معیشت کے وسیع امکانات: صرف مچھلی سے آگے

دوستو، جب ہم ‘سمندری معیشت’ کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہمارے ذہن میں سب سے پہلے مچھلی پکڑنا یا جہاز رانی کا خیال آتا ہے۔ لیکن میرے عزیز پڑھنے والو، حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور دلکش ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے پہلی بار کراچی کے فش ہاربر کا دورہ کیا تھا، وہاں کے ماہی گیروں کی محنت اور ان کے چہروں پر سمندر کی سختی اور مہربانی دونوں واضح نظر آ رہی تھیں۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ سمندر صرف ایک وسیع پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا اقتصادی نظام ہے۔ ‘نیلی معیشت’ ایک جامع تصور ہے جو سمندری وسائل کے پائیدار استعمال پر زور دیتا ہے تاکہ اقتصادی ترقی، روزگار اور سمندر کی ماحولیاتی صحت کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس میں صرف روایتی سمندری صنعتیں ہی نہیں بلکہ ابھرتے ہوئے شعبے بھی شامل ہیں جن کا تصور ہم نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ یہ تصور اس بات پر زور دیتا ہے کہ سمندری وسائل کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ ان کی افادیت مستقبل کی نسلوں کے لیے بھی برقرار رہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے دنیا بھر کی قومیں اس شعبے میں سرمایہ کاری کر کے اپنی معیشتوں کو نئی جہتیں دے رہی ہیں، اور ہمارا پاکستان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
سمندری تجارت اور شپنگ کا عالمی کردار
آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں سمندری تجارت کا کتنا بڑا حصہ ہے۔ ہمارے گھروں میں موجود بیشتر اشیاء، چاہے وہ الیکٹرانکس ہوں یا کپڑے، کہیں نہ کہیں سمندری راستے سے ہی ہم تک پہنچے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عالمی تجارت کا تقریباً 80 فیصد سمندر کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ صرف اشیاء کی نقل و حمل نہیں بلکہ یہ ممالک کے درمیان ثقافتی اور اقتصادی روابط کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ میرے اپنے مشاہدے میں، میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح ایک بڑے کنٹینر جہاز کا ایک بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا سیکڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے، جہاز سے سامان اتارنے سے لے کر اسے گوداموں تک پہنچانے تک ایک پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ بحری جہاز سازی، بندرگاہوں کی ترقی، لاجسٹکس اور سمندری سیکورٹی جیسے شعبے اس میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ بحیرہ احمر میں حالیہ کشیدگی نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت اور متبادل راستوں کی تلاش کتنی ضروری ہے۔ اس سے سمندری بیمہ اور ٹرانسپورٹیشن کی صنعتوں پر بھی گہرا اثر پڑا ہے، جس نے نئے چیلنجز اور مواقع دونوں کو جنم دیا ہے۔
سمندری توانائی کے غیر روایتی ذرائع
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سمندر کی لہریں، سمندری کرنٹ اور سمندر کے درجہ حرارت میں فرق بھی ہمارے لیے بجلی پیدا کر سکتا ہے؟ مجھے یہ جان کر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ قدرت نے ہمیں کتنے وسائل سے نوازا ہے۔ میرے خیال میں، یہ ‘نیلی معیشت’ کا ایک انتہائی دلچسپ اور ابھرتا ہوا پہلو ہے۔ دنیا بھر میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز نے ہمیں قابل تجدید توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سمندری توانائی کے منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، لیکن ان میں ایک بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ مثال کے طور پر، لہروں سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ یا سمندری کرنٹ سے بجلی بنانے والی ٹربائنز مستقبل میں ہمارے توانائی کے بحران کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ طویل مدت میں بہت سستی بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ انجینئرز اور سائنسدان اس شعبے میں کیسے دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ ہم سمندر کی طاقت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکیں۔
پاکستان اور نیلی معیشت: ایک نئے دور کا آغاز
پاکستان کی 1000 کلومیٹر سے زیادہ لمبی ساحلی پٹی اور ایک وسیع خصوصی اقتصادی زون (EEZ) ہے جو ہمیں سمندری معیشت کے میدان میں ایک منفرد پوزیشن پر رکھتا ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ اللہ نے ہمارے ملک کو کتنے وسائل سے نوازا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان سے پوری طرح فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ میرے ذاتی تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی سمندر سے کتنی گہرائی سے جڑی ہوتی ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کی جانب سے ‘نیلی معیشت’ پر بڑھتی ہوئی توجہ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ہماری مجموعی اقتصادی ترقی کو بھی ایک نئی سمت ملے گی۔ مجھے یاد ہے جب چند سال پہلے ‘گوادر بندرگاہ’ کی ترقی کی باتیں شروع ہوئیں، تو بہت سے لوگوں کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا، لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسے خطے کی معیشت کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ یہ صرف بندرگاہ نہیں بلکہ ایک پورا اقتصادی کوریڈور ہے جو سمندر کے ذریعے ہماری تقدیر بدل سکتا ہے۔
گوادر اور ساحلی ترقی کے منصوبے
گوادر، جو کبھی ایک چھوٹا سا ماہی گیر گاؤں تھا، اب پاکستان کی نیلی معیشت کے دل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت فخر ہوتا ہے کہ کیسے ایک چھوٹا سا علاقہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت گوادر کی ترقی نے اسے ایک اہم علاقائی اور بین الاقوامی تجارتی مرکز بنا دیا ہے۔ یہاں نئی سڑکیں، ریلوے لائنیں اور صنعتی زون بن رہے ہیں جو نہ صرف تجارتی سرگرمیاں بڑھائیں گے بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی فراہم کریں گے۔ میرے خیال میں، گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو پاکستان کو دنیا کے تجارتی نقشے پر ایک نیا مقام دے گا۔ یہاں ساحلی سیاحت اور فشریز کے شعبے میں بھی بے پناہ امکانات ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے لوگ دور دراز سے گوادر کے ساحلوں کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں، اور اگر یہاں سیاحتی سہولیات بہتر ہو جائیں تو یہ علاقہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ اس سے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بھی بہتری آئے گی اور انہیں ترقی کے نئے مواقع ملیں گے۔
سمندری وسائل کا پائیدار انتظام
کسی بھی وسیلے کا صحیح استعمال تبھی ممکن ہے جب اس کا انتظام پائیدار طریقے سے کیا جائے۔ ہمارے سمندری وسائل بھی اسی اصول کے تابع ہیں۔ مجھے یہ بات اکثر پریشان کرتی ہے کہ ہم وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور ان کے طویل مدتی اثرات پر غور نہیں کرتے۔ ‘نیلی معیشت’ کا ایک اہم ستون پائیدار انتظام ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے سمندروں کو اس طرح استعمال کریں کہ وہ مستقبل کی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہیں۔ اس میں غیر قانونی شکار کو روکنا، سمندری آلودگی کو کم کرنا، اور سمندری ماحولیاتی نظام کی حفاظت کرنا شامل ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ پاکستان میں سمندری تحفظ کے لیے مختلف تنظیمیں کام کر رہی ہیں، جو لوگوں میں آگاہی پیدا کر رہی ہیں۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والے ماہی گیروں کو بھی جدید اور پائیدار طریقوں سے مچھلی پکڑنے کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ زیادہ دیر تک سمندری وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ وہ کوششیں ہیں جو ہماری نیلی معیشت کو حقیقی معنوں میں مضبوط اور دیرپا بنا سکتی ہیں۔
پائیدار سمندری وسائل کا انتظام: توازن کی اہمیت
جب ہم سمندر سے فائدہ اٹھانے کی بات کرتے ہیں تو یہ بالکل ضروری ہے کہ ہم اس کے ماحولیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔ مجھے یہ بات بہت اہم لگتی ہے کہ ہم ترقی کے چکر میں اپنے ماحول کو نظر انداز نہ کریں۔ نیلی معیشت کا سب سے بنیادی اصول ہی یہ ہے کہ ہمیں معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ سمندر ہمارے لیے نہ صرف خوراک اور روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ یہ آب و ہوا کو کنٹرول کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سمندری جنگلات، مرجان کی چٹانیں، اور مختلف سمندری حیات ہمارے سیارے کے حیاتیاتی تنوع کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ میرے اپنے مشاہدے میں، جب میں نے دیکھا کہ کچھ ساحلی علاقوں میں پلاسٹک کی آلودگی نے سمندری حیات کو کیسے متاثر کیا ہے تو میرا دل بہت دکھی ہوا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سمندر کو صاف ستھرا رکھیں تاکہ یہ نسل در نسل ہماری خدمت کرتا رہے۔
سمندری آلودگی اور اس کے حل
سمندری آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے ہمارے سمندروں اور سمندری حیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز، اور پلاسٹک کا کچرا سمندر میں شامل ہو کر ہمارے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ مجھے اکثر یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ لوگ کس بے پروائی سے کچرا سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں نہ صرف حکومت کی سطح پر سخت قوانین بنانے ہوں گے بلکہ ہمیں انفرادی طور پر بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔ پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنا، کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانا، اور سمندری صفائی مہموں میں حصہ لینا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو اپنے سمندروں کو آلودگی سے پاک کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سمندر میں موجود کچرے کو صاف کرنے کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں، جو ایک مثبت قدم ہے۔
سمندری حیاتیاتی تنوع کا تحفظ
سمندر میں حیاتیاتی تنوع کا تحفظ نیلی معیشت کا ایک اور اہم جزو ہے۔ سمندری حیات کی انمول اقسام ہمارے ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے سمندری حیات میں بہت دلچسپی رہی ہے، اور جب میں نے ڈسکوری چینل پر سمندر کی گہرائیوں کی دنیا دیکھی تو مجھے اس کی خوبصورتی اور پیچیدگی کا احساس ہوا۔ مچھلیوں کی نسلوں کا زیادہ شکار، سمندری آلودگی، اور رہائش گاہوں کی تباہی اس تنوع کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ہمیں ‘میرین پروٹیکٹڈ ایریاز’ (MPAs) قائم کرنے ہوں گے جہاں سمندری حیات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ماہی گیروں کو پائیدار طریقوں سے شکار کی تربیت دینا اور انہیں ایسے جال استعمال کرنے کی ترغیب دینا جو چھوٹی مچھلیوں اور دیگر سمندری حیات کو نقصان نہ پہنچائیں، بہت ضروری ہے۔ یہ کوششیں نہ صرف سمندر کی صحت کو بہتر بنائیں گی بلکہ طویل مدت میں ہماری مچھلی کی صنعت کو بھی مضبوط کریں گی۔
سمندری سیاحت اور ساحلی ترقی: سیاحوں کو راغب کرنا
سمندری سیاحت ‘نیلی معیشت’ کا ایک بہت ہی دلچسپ اور تیزی سے بڑھتا ہوا شعبہ ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے کہ لوگ اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے ساحلی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہمارے ساحل، جیسے کراچی کے ساحل، ہاکس بے، پیراڈائز پوائنٹ، اور گوادر کے دلکش نظارے، دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ہم یہاں پر بنیادی سہولیات، جیسے ہوٹل، ریسٹورنٹس، اور تفریحی سرگرمیاں بہتر بنائیں تو یہ شعبہ ہماری معیشت میں ایک بڑا حصہ ڈال سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں بچپن میں ہاکس بے جاتا تھا تو وہاں پر صرف چند چھوٹی سی جھونپڑیاں ہوتی تھیں، لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں بہتر ریسٹورنٹس اور تفریحی مقامات بن رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار ملتا ہے بلکہ یہ ہمارے ملک کا مثبت تاثر بھی دنیا بھر میں پیش کرتا ہے۔
ساحلی تفریحی مقامات کی ترقی
پاکستان میں ساحلی تفریحی مقامات کی ترقی کے لیے بہت گنجائش موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اس پر توجہ دیں تو ہمارے ساحل مالدیپ یا تھائی لینڈ جیسے مشہور سیاحتی مقامات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہاں جدید ریزورٹس، واٹر اسپورٹس کی سہولیات، اور ساحلی سیر و تفریح کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے خود کئی بار سوچا ہے کہ اگر ہمارے ساحلوں پر اسکوبا ڈائیونگ، سنورکلنگ، اور کشتی رانی جیسی سرگرمیاں آسانی سے دستیاب ہوں تو کتنے سیاح یہاں کا رخ کریں گے۔ اس کے علاوہ، ساحلی شہروں کی ثقافت اور مقامی کھانوں کو بھی فروغ دینا چاہیے تاکہ سیاحوں کو ایک مکمل تجربہ حاصل ہو۔ یہ نہ صرف ہماری معیشت کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ ہمارے نوجوانوں کے لیے نئے کاروبار اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ اس میں انفراسٹرکچر کی ترقی، مقامی کمیونٹیز کی شمولیت، اور پائیدار سیاحتی پالیسیوں کا نفاذ بہت اہم ہے۔
ماحولیاتی سیاحت اور ساحلی کمیونٹیز کا کردار
ماحولیاتی سیاحت، یعنی Eco-tourism، سمندر کے ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ یہ نیلی معیشت کا ایک ذمہ دارانہ پہلو ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ کچھ لوگ سمندر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تحفظ کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ ساحلی کمیونٹیز کا اس میں بہت اہم کردار ہے۔ مقامی لوگ اپنے علاقے کے ماحول اور ثقافت کو بہترین طریقے سے سمجھتے ہیں۔ انہیں سیاحت کی ترقی میں شامل کرنے سے نہ صرف ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ خود بھی اپنے ماحول کے تحفظ کے لیے زیادہ ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ میرے خیال میں، انہیں تربیت فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ سیاحوں کو سمندری حیات اور ماحول کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔ یہ نہ صرف سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنائے گا بلکہ ہمارے سمندروں کی طویل مدتی صحت کو بھی یقینی بنائے گا۔
| سمندری معیشت کے اہم ستون | تفصیل | پاکستان کے لیے امکانات |
|---|---|---|
| فشریز اور ایکوا کلچر | مچھلی، جھینگے اور دیگر سمندری غذا کی پیداوار اور پروسیسنگ | وسیع ساحلی پٹی، برآمدات میں اضافہ، مقامی خوراک کی فراہمی |
| بحری نقل و حمل اور لاجسٹکس | بندرگاہوں کی ترقی، جہاز سازی، بین الاقوامی تجارت | گوادر بندرگاہ، CPEC، علاقائی تجارت کا مرکز بننا |
| ساحلی سیاحت | ساحلی علاقوں میں تفریح، ہوٹلنگ، واٹر اسپورٹس | نایاب ساحل، تاریخی مقامات، روزگار کے مواقع |
| سمندری توانائی | لہروں، جوار بھاٹا اور سمندری کرنٹ سے بجلی کی پیداوار | توانائی کے بحران کا حل، ماحول دوست توانائی کے ذرائع |
| میرین بائیو ٹیکنالوجی | سمندری حیات سے ادویات، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات کی تیاری | نئے صنعتی شعبے، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ |
سمندری توانائی کے نئے راستے: مستقبل کی بجلی
ہم سب جانتے ہیں کہ توانائی ہماری ترقی کے لیے کتنی ضروری ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے سمندر میں صرف رزق ہی نہیں بلکہ توانائی کے بھی بے شمار ذخائر رکھے ہیں۔ روایتی ذرائع جیسے تیل اور گیس کے محدود ہونے اور ان کے ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے دنیا بھر میں متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔ سمندر، اپنی لہروں، جوار بھاٹا، اور کرنٹ کی صورت میں، توانائی کا ایک نہ ختم ہونے والا ذریعہ پیش کرتا ہے۔ میرے خیال میں، یہ ‘نیلی معیشت’ کا ایک ایسا شعبہ ہے جو آنے والے وقتوں میں گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی ممالک، جیسے برطانیہ اور فرانس، اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور کامیاب منصوبے بھی شروع کر چکے ہیں۔ ہمیں بھی اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور اپنے ساحلوں اور سمندری حدود میں موجود توانائی کے ان امکانات کو تلاش کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف ہماری توانائی کی ضروریات پوری کرے گا بلکہ درآمدات پر ہمارا انحصار بھی کم کرے گا۔
جوار بھاٹا اور لہروں سے بجلی کی پیداوار

جوار بھاٹا اور سمندری لہروں سے بجلی پیدا کرنا ایک پرانی لیکن ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار ایک ڈاکومنٹری میں دیکھا کہ کیسے سمندر کی لہروں کو استعمال کر کے بجلی بنائی جاتی ہے تو میں حیران رہ گیا تھا۔ یہ دراصل ایک ایسا نظام ہے جہاں سمندر کی حرکت کو ٹربائنز کے ذریعے بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی پر جوار بھاٹا اور لہروں کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے بہت سے موزوں مقامات موجود ہیں۔ اگر ہم ان ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کریں تو یہ ہمارے ملک کو توانائی کے میدان میں خود کفیل بنا سکتی ہے۔ اس میں بڑے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایک بار جب یہ منصوبے مکمل ہو جاتے ہیں تو ان سے حاصل ہونے والی توانائی بہت سستی اور ماحول دوست ہوتی ہے۔ میرے خیال میں، ہمیں تحقیق و ترقی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ ہم اپنی مقامی ضروریات کے مطابق ان ٹیکنالوجیز کو بہتر بنا سکیں۔
سمندری حرارتی توانائی کا استعمال
کیا آپ جانتے ہیں کہ سمندر کی سطح اور گہرائی کے درجہ حرارت میں فرق کو بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اسے ‘سمندری حرارتی توانائی کی تبدیلی’ (Ocean Thermal Energy Conversion – OTEC) کہتے ہیں۔ مجھے یہ خیال ہمیشہ سے بہت سائنسی اور دلچسپ لگتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان علاقوں کے لیے موزوں ہے جہاں گہرے سمندر میں پانی کا درجہ حرارت سطح کے پانی سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلسل توانائی کا ذریعہ ہے جو چوبیس گھنٹے دستیاب ہوتا ہے، unlike شمسی اور ہوا کی توانائی کے، جو موسم پر منحصر ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال نہیں ہو رہی، لیکن اس میں بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کے گرم سمندری علاقوں میں اس ٹیکنالوجی کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے تاکہ مستقبل میں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ نہ صرف بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا ذریعہ ہو گا بلکہ اس سے پینے کا صاف پانی بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، جو ساحلی علاقوں کے لیے ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔
میرین بائیو ٹیکنالوجی: سمندر سے صحت اور خوشحالی
ہماری زندگی میں بائیو ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، اور سمندر اس میدان میں ایک انمول خزانہ ثابت ہو رہا ہے۔ مجھے یہ بات ہمیشہ حیران کرتی ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں ایسی کون کون سی چیزیں چھپی ہیں جن کا ہم ابھی تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ‘میرین بائیو ٹیکنالوجی’ کا مطلب ہے سمندری جانداروں اور ان کے وسائل کو استعمال کر کے نئے پروڈکٹس اور ٹیکنالوجیز تیار کرنا۔ اس میں ادویات، کاسمیٹکس، غذائی سپلیمنٹس، اور ماحول دوست صنعتی حل شامل ہیں۔ کئی ایسی ادویات جو کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہیں، ان کی دریافت سمندری بیکٹیریا اور پودوں سے ہوئی ہے۔ میرے خیال میں، یہ ‘نیلی معیشت’ کا ایک انتہائی جدت پسند اور منافع بخش شعبہ ہے جہاں پاکستان کے لیے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ ہمیں اس شعبے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ہم ان انمول وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔
سمندری ادویات اور فارماسیوٹیکلز
سمندر، جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا، قدرتی مرکبات کا ایک وسیع ذخیرہ ہے۔ مجھے یہ جان کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے کہ سائنسدان سمندر کی گہرائیوں میں نئی ادویات کی تلاش میں مصروف ہیں۔ سمندری نباتات اور حیوانات سے حاصل ہونے والے مرکبات میں اینٹی بائیوٹک، اینٹی کینسر، اور سوزش کش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ کئی بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں سمندر سے نئے مالیکیولز کی تلاش میں ہیں تاکہ وہ نئی اور مؤثر ادویات تیار کر سکیں۔ پاکستان کی وسیع ساحلی پٹی اور سمندری حیاتیاتی تنوع اس شعبے میں تحقیق کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں اور عالمی ماہرین کے ساتھ تعاون کریں تو ہم نہ صرف ادویات کی تیاری میں خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ انہیں برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ہمیں اپنی ریسرچ لیبز کو مضبوط کرنا ہو گا اور نوجوان سائنسدانوں کو ترغیب دینی ہو گی۔
فوڈ انڈسٹری میں سمندری بائیو ٹیکنالوجی کا کردار
سمندری بائیو ٹیکنالوجی کا فوڈ انڈسٹری میں بھی بہت بڑا کردار ہے۔ مجھے یہ بات ہمیشہ دلچسپ لگتی ہے کہ سمندر سے ہمیں صرف مچھلی ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ ملتا ہے۔ سمندری کائی (algae) سے غذائی سپلیمنٹس، قدرتی رنگ، اور غذائی اجزاء حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ غذائیں نہ صرف صحت بخش ہوتی ہیں بلکہ ان میں ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سمندری بیکٹیریا کو خوراک کو محفوظ کرنے اور اس کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں، جہاں غذائی تحفظ ایک اہم مسئلہ ہے، سمندری بائیو ٹیکنالوجی ہمیں نئے اور پائیدار غذائی ذرائع فراہم کر سکتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں ‘سی ویڈ’ (seaweed) کی کاشت اور اس سے بننے والی مصنوعات کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور پاکستان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو نہ صرف مقامی آبادی کے لیے خوراک کی فراہمی میں مدد دے گا بلکہ برآمدات کے ذریعے ہماری معیشت کو بھی مضبوط کرے گا۔
ماحولیاتی چیلنجز اور سمندری معیشت: تحفظ ہماری ذمہ داری
دوستو، ہم نے سمندر کے بے شمار فوائد اور اس سے حاصل ہونے والے امکانات پر بات کی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے سمندر آج کل کئی بڑے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر ہمیشہ دکھ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے قیمتی وسائل کو تباہ کر رہے ہیں۔ سمندری آلودگی، غیر قانونی شکار، موسمیاتی تبدیلیوں سے سمندر کی سطح میں اضافہ، اور سمندری تیزابیت ایسے مسائل ہیں جو نہ صرف سمندری حیات بلکہ ہماری نیلی معیشت کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر ہم ان چیلنجز پر قابو نہیں پاتے تو ‘نیلی معیشت’ کا پورا تصور خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے سمندروں کی حفاظت کریں اور ان کے پائیدار استعمال کو یقینی بنائیں۔ میرے خیال میں، یہ صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کا کام نہیں بلکہ ہر شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔
موسمیاتی تبدیلی اور سمندر پر اس کے اثرات
موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کے سمندر پر بہت گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب چند سال پہلے کراچی میں معمول سے زیادہ گرمی پڑی تھی، تو اس کا اثر سمندری حیات پر بھی دیکھا گیا تھا۔ سمندر کی سطح کا بڑھنا، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ، اور سمندری تیزابیت عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ یہ تبدیلیاں سمندری ماحولیاتی نظام، مرجان کی چٹانوں، اور مچھلیوں کی نسلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یہ نہ صرف سمندری ماہی گیری کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ساحلی شہروں اور ان کے انفراسٹرکچر کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کرنی ہوں گی اور اپنے ملک میں بھی اس کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ درخت لگانا، کاربن کے اخراج کو کم کرنا، اور قابل تجدید توانائی کا استعمال بڑھانا اس مسئلے کا حل ہے۔
سمندری قانون اور بین الاقوامی تعاون
سمندر کی حفاظت اور اس کے وسائل کا پائیدار انتظام کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ مجھے یہ بات بہت اہم لگتی ہے کہ تمام ممالک مل کر اس پر کام کریں۔ ‘سمندری قانون’ اور بین الاقوامی تعاون اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ‘سمندری قانون کنونشن’ (UNCLOS) سمندری سرگرمیوں کو منظم کرنے اور ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کو بھی ان بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ سمندری سیکورٹی، قزاقی کا مقابلہ، اور سمندری آلودگی پر قابو پانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون بہت ضروری ہے۔ یہ تعاون نہ صرف ہمارے سمندروں کو محفوظ بنائے گا بلکہ ‘نیلی معیشت’ کے فوائد کو بھی تمام ممالک تک پہنچائے گا۔
글 کو سمیٹتے ہوئے
میرے پیارے دوستو، ‘نیلی معیشت’ محض ایک اقتصادی اصطلاح نہیں بلکہ ہمارے ملک کے لیے ایک روشن مستقبل کا نقشہ ہے۔ میں نے اپنے تجربے میں یہ سیکھا ہے کہ سمندر کی وسعتوں میں ہمارے لیے بے پناہ مواقع چھپے ہیں، بشرطیکہ ہم انہیں دانشمندی اور پائیداری کے ساتھ استعمال کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے سمندری وسائل کی حقیقی قدر کو پہچانیں اور ان کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر، حکومت، نجی شعبہ اور عام شہری، اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں تو پاکستان دنیا کی کامیاب ترین سمندری معیشتوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
جاننے کے لیے مفید معلومات
1. فشریز کی پائیدار ترقی: جدید فشنگ ٹیکنالوجیز اور ایکوا کلچر کے فروغ سے سمندری غذا کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے جبکہ سمندری ماحولیاتی نظام کو بھی تحفظ ملے گا۔
2. نقل و حمل کے نئے راستے: گوادر جیسے بندرگاہوں کی ترقی سے پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، جس سے وسیع اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔
3. قابل تجدید سمندری توانائی: لہروں، جوار بھاٹا اور سمندری کرنٹ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے توانائی کے بحران کا ماحول دوست اور پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔
4. میرین بائیو ٹیکنالوجی میں تحقیق: سمندری حیات سے ادویات، کاسمیٹکس اور غذائی سپلیمنٹس کی تیاری ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جو مستقبل میں ہماری معیشت کو نئی جہتیں دے سکتا ہے۔
5. ساحلی سیاحت کا فروغ: ہمارے خوبصورت ساحلوں پر جدید سہولیات اور سرگرمیوں کو فروغ دے کر سیاحت کے شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے، جس سے مقامی معیشت مضبوط ہو گی۔
اہم نکات کا خلاصہ
ہماری گفتگو سے یہ بات واضح ہے کہ نیلی معیشت پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی اور خوشحالی کا ایک سنہرا موقع ہے۔ اس میں فشریز، شپنگ، توانائی، بائیو ٹیکنالوجی اور سیاحت جیسے بے شمار شعبے شامل ہیں۔ ہمیں اپنے سمندری وسائل کا پائیدار انتظام کرنا ہو گا، موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنا ہو گا اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔ یہ سب کچھ مل کر ہی ہمارے سمندروں کی حفاظت اور ہماری ‘نیلی معیشت’ کی کامیابی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومتی پالیسیوں، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور عوام کی آگاہی اور شمولیت انتہائی ضروری ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: نیلی معیشت (Blue Economy) سے کیا مراد ہے اور یہ ہمارے لیے کیوں اتنی اہم ہے؟
ج: جی تو میرے بھائیو اور بہنو، نیلی معیشت دراصل سمندری وسائل کو پائیدار طریقے سے استعمال کرتے ہوئے معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا ایک جامع تصور ہے۔ یہ صرف مچھلی پکڑنے یا بندرگاہوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں سمندری سیاحت، قابل تجدید سمندری توانائی (جیسے سمندری لہروں سے بجلی پیدا کرنا)، سمندری تحقیق، آبی زراعت (مچھلی اور جھینگوں کی فارمنگ)، جہاز سازی، اور سمندر سے متعلقہ ڈیجیٹل خدمات بھی شامل ہیں۔ یہ ہمارے لیے اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان کی زیادہ تر تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے اور ہمارے پاس ایک لمبا ساحل ہے جس میں بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب ہم ان وسائل کو ہوشیاری اور منصوبہ بندی سے استعمال کرتے ہیں تو نہ صرف ہماری قومی آمدنی بڑھتی ہے بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے تو یہ زندگی کا دوسرا نام ہے۔
س: نیلی معیشت کے تحت کون سے اہم شعبے ترقی کر سکتے ہیں اور ان سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
ج: سمندری معیشت کے تحت کئی شعبے ہیں جن میں ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سب سے پہلے تو “ساحلی سیاحت” ہے، مجھے یاد ہے جب میں نے گوادر کے ساحلوں کا دورہ کیا تو اس کی خوبصورتی نے مجھے دنگ کر دیا، اگر ہم وہاں سیاحتی سہولیات بہتر کریں تو یہ ایک بہت بڑا صنعت بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ “آبی زراعت” (Aquaculture) ہے، یعنی مچھلیوں اور دیگر سمندری جانوروں کی کاشت کرنا۔ اس سے نہ صرف ہماری غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں بلکہ ایکسپورٹ کے ذریعے زر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ “سمندری توانائی” ایک اور ابھرتا ہوا شعبہ ہے، ہم سمندر کی لہروں، ہوا اور سمندری حرارت سے بجلی پیدا کر سکتے ہیں، جو ہماری توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔ “جہاز رانی اور بندرگاہیں” تو ہماری معیشت کی شہ رگ ہیں، عالمی تجارت کا بڑا حصہ اسی کے ذریعے ہوتا ہے، لہٰذا اس شعبے کو جدید بنانا بہت ضروری ہے۔ اور ہاں، “سمندری تحقیق” بھی بہت اہم ہے، نئے سمندری وسائل، ادویات اور ٹیکنالوجیز کی دریافت مستقبل کی راہیں کھول سکتی ہے۔ یقین جانیں، ان شعبوں کی ترقی ہمارے ملک کو معاشی طور پر خود مختار بنا سکتی ہے۔
س: موجودہ عالمی چیلنجز، جیسے بحیرہ احمر میں تجارتی رکاوٹیں، کے پیش نظر نیلی معیشت کی اہمیت کیسے بڑھ جاتی ہے؟
ج: یہ تو ایک بہت بروقت سوال ہے دوستو! بحیرہ احمر جیسے اہم تجارتی راستوں پر جب بھی کوئی رکاوٹ آتی ہے، جیسے کہ حال ہی میں ہم نے دیکھا، تو دنیا بھر کی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں، نیلی معیشت کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ ہمیں “تجارتی راستوں کا تنوع” فراہم کرتی ہے، یعنی اگر ایک راستہ بند ہو جائے تو ہمارے پاس دوسرے سمندری راستے موجود ہوں جنہیں ہم موثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ دوسرا، یہ ہمیں “اندرونی وسائل پر انحصار” کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر عالمی تجارت میں کمی آئے تو ہم اپنے سمندری وسائل (جیسے مچھلی، گیس، توانائی) کا زیادہ بہتر استعمال کر کے اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ ایسی صورتحال میں ہمیں اپنی “سمندری سیکیورٹی” کو بھی مضبوط کرنا چاہیے تاکہ ہمارے تجارتی جہاز اور بحری اثاثے محفوظ رہیں۔ یہ ہمیں نہ صرف مشکل وقت میں استحکام فراہم کرے گی بلکہ مستقبل میں عالمی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار کرے گی۔ دراصل، یہ ہمیں یہ موقع دیتی ہے کہ ہم اپنے سمندری اثاثوں کو صرف ایک تجارتی گزرگاہ سمجھنے کے بجائے، انہیں اپنی خود مختار معاشی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔






